عشق دہلیز سے وہ پار نہیں آتا ہے
عشق دہلیز سے وہ پار نہیں آتا ہے
اس کے لب پر کبھی اظہار نہیں آتا ہے
غور سے دیکھو مجھے اور بتاؤ سچ سچ
کیا تمہیں مجھ پہ کبھی پیار نہیں آتا ہے
اول آخر کی کوئی بحث نہیں ہے اس میں
عشق کی راہ میں سنسار نہیں آتا ہے
جب تلک داد نہ مل جائے سہی سے فن کی
عالم وجد میں فنکار نہیں آتا ہے
ایک دو شعر ہی ہوتے ہیں غزل میں صاحب
تاش میں اکا تو ہر بار نہیں آتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.