خواب آنکھوں سے ہاتھوں سے پھول اور چراغ اور دعا لے گئے
خواب آنکھوں سے ہاتھوں سے پھول اور چراغ اور دعا لے گئے
اب کے یہ سنگ زن چھین کر ہی مرا آئنہ لے گئے
موج خوں ناب جب سر سے اونچی ہوئی اس طرح بھی ہوا
شہریاروں کی دستار خاشاک مل کر بہا لے گئے
یاں کتاب محبت تو بس طاق میں جوں کی توں رہ گئی
اصل اوراق جو تھے وہ دشمن ہمارے اڑا لے گئے
جس خزانے پہ ساحل سمندر سے اس درجہ ناراض تھا
شب کے قزاق آئے اور آ کر وہ دولت اُٹھا لے گئے
شعر پیغمبروں کی طرح سے اترتے ہیں اب بھی مگر
میرے کذب و ریا دست تخلیق سے معجزہ لے گئے
اک تواتر سے بارش زمیں کو مسلسل بھگوتی تو ہے
میرے اعمال آب و نمک سے مگر ذائقہ لے گئے
اول اہل قبیلہ نے پرچم بنایا اسے اور پھر
پیش دشمن بھی تاوان میں صرف میری ردا لے گئے
Ek Diya Aur Ek Phool
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.