وہ قافلے میں تو کیا تھا غبار میں بھی نہ تھا
وہ قافلے میں تو کیا تھا غبار میں بھی نہ تھا
جو اول آیا ہے پہلے ہزار میں بھی نہ تھا
ترے نہ آنے کا سن کے بہت اداس ہوا
وہ آدمی جو ترے انتظار میں بھی نہ تھا
تمام سمتیں سبھی راستے اسی کے تھے
مرا بچاؤ تو راہ فرار میں بھی نہ تھا
بھگت رہا ہوں اسی کی سزا ابھی ضوریزؔ
وہ فیصلہ جو مرے اختیار میں بھی نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.