مقتل سے راہ و رسم تکلف اٹھائی جائے
مقتل سے راہ و رسم تکلف اٹھائی جائے
خود ان کی آستین انہیں اب دکھائی جائے
جب بارش کرم نہیں مقسوم آرزو
خوابوں کی خشک فصل ہی یارو اگائی جائے
اعلان شہر دل میں ہوا ہے یہ رات بھر
اب صبح کو بھی شمع نہ غم کی بجھائی جائے
جدت پرستوں سے کہو طاقوں میں گل جلائیں
اور ہو سکے تو شمع چمن میں اگائی جائے
آنکھوں میں شرم پلکوں پہ احساس کی نمی
اب وقت ہے جبین محبت جھکائی جائے
آداب کچھ عجب ہیں محبت کے دوستو
جو چیز جس نے دی ہو اسی سے چھپائی جائے
کیوں خالی ہاتھ آئی ہے اس کوچے سے صبا
کیا گزری گیسوؤں پہ خبر تو منگائی جائے
طوفاں میں روشنی کے یہ آنکھیں ہی بجھ نہ جائیں
اک راہ تیرہ شہر سے ہٹ کر بنائی جائے
آواز دوں کسی کو تو میں کیا سمجھ کے دوں
کھڑکی کسی مکاں کی کھلی بھی تو پائی جائے
وعدہ کیا ہے اس نے نعیمیؔ بصد کرم
اک شمع آج بزم ثریا سے لائی جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.