اب زندگی میں کوئی بھی ارماں نہیں رہا
اب زندگی میں کوئی بھی ارماں نہیں رہا
مہمان تھا جو دل کا وہ مہماں نہیں رہا
ہیں لاکھ یوں تو تلخیاں میرے نصیب میں
ہوتے ہوئے میں تیرے پریشاں نہیں رہا
آنکھیں پڑی ہیں تیرے ہی رستے پہ اب تلک
آنے کا تیرے کوئی بھی امکاں نہیں رہا
دست جنوں نے کر دیا دامن کو چاک چاک
کوئی چراغ بھی تہ داماں نہیں رہا
مشکل سا ہو گیا یہاں مرنا بھی آج کل
جینا بھی اب یہاں کوئی آساں نہیں رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.