بات کرنے سے حل نکلتا ہے
بات کرنے سے حل نکلتا ہے
راستہ کوئی چل نکلتا ہے
تیرے قدموں پڑا ہے سر میرا
یوں انا کا بھی بل نکلتا ہے
میری آنکھیں چناب بہتی ہیں
میرے پاؤں سے تھل نکلتا ہے
بھوک پیڑوں سے جب الجھتی ہے
پھر ہی شاخوں پہ پھل نکلتا ہے
بھیڑ لگ جائے ہے ادھر امجدؔ
وہ جدھر آج کل نکلتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.