مرے بدن پہ قبائے انا سلامت تھی
مرے بدن پہ قبائے انا سلامت تھی
بلند تھا مرا سر زندگی قیامت تھی
کسی کو مجھ سے محبت نہ تھی عجب دن تھے
کہ جب اصولوں سے اپنے مجھے محبت تھی
لہو بدن میں نہ تھا تیل تھا مشینوں کا
جوان چہرہ تھا اور خاک جیسی رنگت تھی
کل اس کی آنکھ بھی نم ہو گئی مرے غم پر
یہ عمر بھر کے مرے آنسوؤں کی قیمت تھی
خلوص بانٹ دیا نا سپاس لوگوں میں
یہی فقیر کے دامن میں ایک دولت تھی
کنار آب رواں اک ہجوم تھا لیکن
بچائے ڈوبتے بچے کو کس میں ہمت تھی
طواف پھولوں کا چھوڑا چمن سے ہجرت کی
یہ تتلیوں کی روایات سے بغاوت تھی
کمالؔ باد خزاں اوڑھ کر ہیں خوابیدہ
وہ پیڑ جن کو نئی کونپلوں کی حسرت تھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.