دیکھنا رسم محبت کا ادا ہو جانا
دیکھنا رسم محبت کا ادا ہو جانا
میری آغوش کا سولی پہ بھی وا ہو جانا
کبھی کیسے نظر آنا کبھی کیا ہو جانا
باور آیا ہمیں انساں کا خدا ہو جانا
اس سے پہلے کبھی شاید کہ یہ رت آئی ہو
قد میں سبزے کا درختوں سے بڑا ہو جانا
زندگی تیرے مقامات کڑے ہیں کتنے
اپنے دروازے پہ بھی آ کے گدا ہو جانا
اس نے پامال کیا ہے تو شکایت کیسی
مجھ کو معلوم ہے مٹی کا ہرا ہو جانا
مدتوں بعد تو آئے ہو کوئی بات کرو
مان لو پھر کسی فرصت میں خفا ہو جانا
پیڑ کے سائے میں بیٹھا ہوں مگر جانتا ہوں
شاخ سے ٹوٹ کے پتے کا جدا ہو جانا
لوگ کہتے ہیں کہ راہوں میں جل اٹھتے ہیں دیئے
تم کسی شام ادھر سے بھی ذرا ہو جانا
دشت غربت ہی پہ موقوف نہیں اب حشمیؔ
اپنی گلیوں میں پھرو آبلہ پا ہو جانا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.