پتے گلاب کے ہوں کہ پتے چنار کے
پتے گلاب کے ہوں کہ پتے چنار کے
دونوں سے غم جڑے ہیں مرے بچھڑے یار کے
سوچا تھا تیرے نام سے شاید ملے سکون
بوجھل کچھ اور ہو گئے تجھ کو پکار کے
پلکیں جھپک رہے ہیں وہ محفل میں بار بار
کوشش سے چھپ نہ پائیں گے ڈورے خمار کے
ایسے قدم ملا کے چلے تھے سبک خرام
ذرے چمک رہے ہیں ابھی تک غبار کے
مے خانہ سامنے ہے تو بیتاب کیوں نہ ہوں
ترسے ہوئے ہیں آج بھی ہم بار بار کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.