کاش اس صدمۂ پیہم کا جنازہ اٹھے
کاش اس صدمۂ پیہم کا جنازہ اٹھے
ایسا کچھ ہو کہ مرے غم کا جنازہ اٹھے
اشک برساؤ مناؤ اسے تاکہ اس سے
آتش ہجر کے موسم کا جنازہ اٹھے
عالم غم میں بھی عالم کی پڑی ہے مجھ کو
چاہتا ہوں غم عالم کا جنازہ اٹھے
اس کی خواہش ہے نئے رشتے کو اب دفن کریں
یعنی میں تم ہی رہیں ہم کا جنازہ اٹھے
آپ مصرع تو اٹھائیں بہت اونچا لیکن
ایسے مت گائیں کہ سرگم کا جنازہ اٹھے
فکر میت کی تمہیں ہے تو دعا یہ بھی کرو
جسم سے پہلے مرے دم کا جنازہ اٹھے
صرف الماری سے گھر کی نہیں چلتا گوہرؔ
دل سے بھی یادوں کے البم کا جنازہ اٹھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.