عالم گرد میں مرتا ہے مرے یا نہ مرے
عالم گرد میں مرتا ہے مرے یا نہ مرے
عین دریا پہ کوئی شخص پیاسا نہ مرے
تیرے جانے پہ یہ دل جان سے جائے لیکن
تو دعا کر کہ ترے ہجر میں زندہ نہ مرے
ایسا جیون ہے نہاں لمس پری وش میں کہ دوست
یہ جسے چھو لے وہ تا محشر کبریٰ نہ مرے
موت کا وقت پتا ہو تو سبھی عمر یہاں
آدمی تنہا رہے پر کبھی تنہا نہ مرے
عشق پر خاک ہو گر کوئی بصد شوق اخیر
تیرے کوچے میں گریباندریدہ نہ مرے
کاش اے قاتل دلگیر تمہارے سر سے
میرے مقتول دل ظرف کا سایہ نہ مرے
جنگ میں مار دیا جائے تو پھر بات ہے اور
لیکن اس زد میں کوئی تیسرا بے جا نہ مرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.