بہت مدت یہ خطہ نم رہا ہے
بہت مدت یہ خطہ نم رہا ہے
یہاں برسات کا موسم رہا ہے
بڑی شدت سے جس کا قرب چاہا
مرے نزدیک وہ کم کم رہا ہے
یہ آنسو تیرے آگے بے اثر ہیں
سو تھک کر اب یہ دریا تھم رہا ہے
تمہارے ہجر کی راتوں میں اکثر
رگ جاں میں بپا ماتم رہا ہے
تمہیں رخصت کیا ہے مسکرا کر
مگر دل دیر تک بے دم رہا ہے
رہے زندہ تو ہر اک تھا گریزاں
مرے تو دیر تک ماتم رہا ہے
تجھے اظہرؔ نے اک عالم میں ڈھونڈا
تیری چاہت میں یہ عالم رہا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.