ہر اک چہرہ بہت سہما ہوا ہے
تری بستی کو آخر کیا ہوا ہے
بہت غمگین لوٹے ہیں پرندے
فلک پر آج کیا ایسا ہوا ہے
ذرا سوچو کوئی تو بات ہوگی
کوئی رستے پہ کیوں بیٹھا ہوا ہے
ہوئی جاتی ہے کیوں بے ربط دھڑکن
یہ اب کس بات کا دھڑکا ہوا ہے
بہت پیارے ہیں یہ کوچے یہ گلیاں
کبھی اپنا یہاں چرچا ہوا ہے
سنا ہے رات پورے چاند کی ہے
سمندر شام سے بہکا ہوا ہے
مرے دل میں کوئی معصوم بچہ
کسی سے آج تک روٹھا ہوا ہے
Raushni Jaari Karo
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.