ہر ایک سانس کے پیچھے کوئی بلا ہی نہ ہو
ہر ایک سانس کے پیچھے کوئی بلا ہی نہ ہو
میں جی رہا ہوں تو جینا مری سزا ہی نہ ہو
جو ابتدا ہے کسی انتہا میں ضم تو نہیں
جو انتہا ہے کہیں وہ بھی ابتدا ہی نہ ہو
مری صدائیں مجھی میں پلٹ کے آتی ہیں
وہ میرے گنبد بے در میں گونجتا ہی نہ ہو
بجھا رکھے ہیں یہ کس نے سبھی چراغ ہوس
ذرا سا جھانک کے دیکھیں کہیں ہوا ہی نہ ہو
عجب نہیں کہ ہو اس آستاں پہ جم غفیر
اور اس کو میرے سوا کوئی دیکھتا ہی نہ ہو
وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے رو رو پڑے ہمارے لئے
سو دور دور تک اپنا اتا پتا ہی نہ ہو
Sabhi Rang Tumhare Nikle
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.