Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں

محمد علوی

ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں

محمد علوی

ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں

سب اپنے اپنے خوابوں میں کھوئے ہوئے سے ہیں

میں شام کے حصار میں جکڑا ہوا سا ہوں

منظر مرے لہو میں ڈبوئے ہوئے سے ہیں

محسوس ہو رہا ہے یہ پھولوں کو دیکھ کر

جیسے تمام رات کے روئے ہوئے سے ہیں

اک ڈور ہی ہے دن کی مہینوں کی سال کی

اس میں کہیں پہ ہم بھی پروئے ہوئے سے ہیں

علویؔ یہ معجزہ ہے دسمبر کی دھوپ کا

سارے مکان شہر کے دھوئے ہوئے سے ہیں

مأخذ :
  • کتاب : لفافے میں روشنی (Pg. 84)
  • Author : محمد علوی
  • مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2018)
  • اشاعت : First

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے