ہم جڑے رہتے تھے آباد مکانوں کی طرح
ہم جڑے رہتے تھے آباد مکانوں کی طرح
اب یہ باتیں ہمیں لگتی ہیں فسانوں کی طرح
پیاس میں گھلتے ہوئے باغ کا کیا پوچھتے ہو
شاخ سے پھول نکلتے ہیں زبانوں کی طرح
میں تو اس شہر میں رکنے کے لیے آیا تھا
لیکن اس شہر کے رستے ہیں ڈھلانوں کی طرح
رات کو دیر سے لوٹوں تو محلے کے مکان
گھورتے ہیں مجھے دشمن کے ٹھکانوں کی طرح
ماں کے ہوتے کبھی سوچا ہی نہیں تھا تابشؔ
گھر بکھر جائے گا تسبیح کے دانوں کی طرح
Agar Main Sher Na Kahta
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.