Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بند کمرے میں نہ گھٹ جائے کہیں دم لوگو

ایمن جعفری

بند کمرے میں نہ گھٹ جائے کہیں دم لوگو

ایمن جعفری

MORE BYایمن جعفری

    بند کمرے میں نہ گھٹ جائے کہیں دم لوگو

    کم سے کم کوئی دریچہ ہی کہیں سے کھولو

    کوئی تحریک تو ابھرے کوئی ہلچل تو ہو

    کوئی پتھر کسی جانب سے ادھر بھی پھینکو

    حرف نا گفتہ ہوں اک روز مجھے بھی تو پڑھو

    میرے سائے کو مرا کھویا ہوا چہرہ دو

    حادثے وقت کے ہر موڑ پہ ہیں آوارہ

    اس طرح شہر میں گھر کانچ کا لے کر نہ پھرو

    جانے کیا ہے کہ وہ جذبات نہیں سینوں میں

    ورنہ میں بھی ہوں وہی اور وہی تم بھی ہو

    کتنے لمحوں کا تعفن ہے مرے اندر بھی

    مجھ کو دیکھو مرے ماتھے کی لکیروں کو پڑھو

    دھوپ تنہائی کی ایمنؔ ہے ابھی تیز بہت

    ٹوٹتے سائے میں یادوں کے ذرا دم لے لو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے