آپ اس گلشن کو تنہا چھوڑ کے جانے لگے
آپ اس گلشن کو تنہا چھوڑ کے جانے لگے
پھول کلیاں اور پتے سب ہیں مرجھانے لگے
دل کو تھا احساس وہ مڑ کے نہ دیکھیں گے ہمیں
ہاتھ پھر بھی ہم ہوا میں اپنے لہرانے لگے
ہیں دراریں بھی کھلی ہیں کھڑکیاں دروازے بھی
اب امیدیں ہیں مکاں میں روشنی آنے لگے
جن درختوں پر بسیروں کو ہوا نے توڑا تھا
ان درختوں پر پرندے پھر سے ہیں آنے لگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.