پے بہ پے مجھ پہ ہے ستم کس کا
پے بہ پے مجھ پہ ہے ستم کس کا
نام لکھے مرا قلم کس کا
وہ تو رشتہ وفا کا توڑ چلا
رستہ دیکھے ہے چشم نم کس کا
جب کہ اس کو بھلا چکے دل سے
پھر یہ پلتا ہے دل میں غم کس کا
جرم کس کا ہے کون مجرم ہے
اور ہوتا ہے سر قلم کس کا
جس کو دیکھو وہ لڑکھڑاتا ہے
میکدے میں رہا بھرم کس کا
کس نے بھیجا ہے میرے نام یہ خط
آج کاوشؔ یہ ہے کرم کس کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.