نہ چاہتے ہوئے دل کام پر لگاتا ہوں (ردیف .. و)
نہ چاہتے ہوئے دل کام پر لگاتا ہوں
لگا بھی لوں تو بہت مختصر لگاتا ہوں
پرانے درد پہ لکھتا ہوں اب نئے اشعار
کہ سوکھے پیڑ پہ تازہ ثمر لگاتا ہوں
مرا تھا قیدی پرندہ کئی برس پہلے
کئی برس سے اسی دن شجر لگاتا ہوں
عمیر نجمیؔ کو سنتا ہوں رنج اور غم میں
میں اک دوائی کئی زخم پر لگاتا ہوں
ہوں خاندان سے اپنے میں دوسرا شاعر
سو اپنے نام کے آگے عمرؔ لگاتا ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.