میرا ہی خون پی کے ہر اک رات رات بھر
میرا ہی خون پی کے ہر اک رات رات بھر
آسیب ناچتے ہیں مرے ساتھ رات بھر
بے چہرہ دشمنوں کے خیالی خطر کا خوف
بیٹھے رہے لگائے ہوئے گھات رات بھر
یادوں کی نرم آنچ میں سکتے رہے بدن
باتوں میں سے نکلتی رہی بات رات بھر
بھیتر بدن جھلستے تھے اپنی ہی آگ میں
باہر برس رہی تھی یوں برسات رات بھر
ان سے ہی منہ کو موڑ کے سوتے ہیں ان دنوں
کرتے تھے جن کو پیار کبھی رات رات بھر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.