تری باتیں سنائی جا رہی ہیں
تری باتیں سنائی جا رہی ہیں
یہ آنکھیں خواب لے کے آ رہی ہیں
ہمارے راستے الجھا رہی ہیں
تری آنکھیں ہمیں بہکا رہی ہیں
مرے اندر شراروں کی ندی ہے
سو مجھ پر تتلیاں کیوں گا رہی ہیں
جوانی میں ہی خود کو کھو گئے ہم
ہمیں اندر سے باتیں کھا رہی ہیں
تری یادیں فضا میں آ گئیں سو
گھٹائیں آسماں پر چھا رہی ہیں
کہانی میں تو کچھ بدلا نہیں ہے
نئی قسطیں دکھائی جا رہی ہیں
رویہ ان کا بہتر ہو رہا ہے
تری غزلیں اثر دکھلا رہی ہیں
یہ یک طرفہ نظام عدل کب تک
یہاں کی عورتیں اکتا رہی ہیں
چھڑانا چاہتے ہیں ہاتھ مجھ سے
ادائیں آپ کی بتلا رہی ہیں
یہ رشتہ عمر بھر کا ہے ہمارا
بھلا پھر آپ کیوں شرما رہی ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.