جب تک اتنے قرب سے دیکھا نہ تھا
جب تک اتنے قرب سے دیکھا نہ تھا
فاصلوں کے حسن کو سمجھا نہ تھا
زیست تو کیا موت کا یارا نہ تھا
قبر مہنگی تھی کفن سستا نہ تھا
تجھ سے کیا شکوہ کہ ایسی تھی فضا
تو ہی کیا ہر آشنا بیگانہ تھا
سیکڑوں غم ہائے دنیا کس لیے
کیا ترا غم حاصل دنیا نہ تھا
بک گئے بازار میں جسم و دماغ
دل وہ باغی تھا کہ بک سکتا نہ تھا
کس نے خیمے کی طنابیں کاٹ دیں
دشت میں تو کوئی ہمسایہ نہ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.