چاہت وفا خلوص یہ خوشبو یہاں کی ہے
چاہت وفا خلوص یہ خوشبو یہاں کی ہے
کتنی حسیں فضا مرے ہندوستاں کی ہے
سورج ستارے چاند گلستان و کہکشاں
خلقت یہ جتنی ہے سبھی رب جہاں کی ہے
یہ سچ ہے اور بھی ہیں زبانیں مگر سنو
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
بلبل چہک چہک کے سنانے لگا ہے گیت
اٹھ جاؤ مومنو یہ صدا اب اذاں کی ہے
پیدا ہوئی یہیں پہ یہیں پر جواں ہوئی
اردو زباں ہماری یہ ہندوستاں کی ہے
محفل مہکتی رہتی ہے لفظوں کے پھول سے
مہروؔ تری غزل میں یہ خوشبو کہاں کی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.