Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے

ثاقب لکھنوی

ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے

ثاقب لکھنوی

ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے

جو ہجر میں تڑپائے وہی رات بڑی ہے

یہ ضعف کا عالم ہے کہ تقدیر کا لکھا

بستر پہ ہوں میں یا کوئی تصویر پڑی ہے

بیتابیٔ دل کا ہے وہ دلچسپ تماشا

جب دیکھو شب ہجر مرے در پہ کھڑی ہے

دیکھا تو زمانہ گلۂ ہجر سے کم تھا

سمجھا تھا کہ فرقت سے شب وصل بڑی ہے

رونے سے حیا شمع کی ظاہر ہو تو کیوں کر

عریاں ہے مگر بیچ میں محفل کے کھڑی ہے

اب تک مجھے کچھ اور دکھائی نہیں دیتا

کیا جانئے کس آنکھ سے یہ آنکھ لڑی ہے

مر جاؤں جو میں وادئ الفت میں عجب کیا

مقصد ہے مرا سخت تو منزل بھی کڑی ہے

کب آؤ گے وقت آ گیا دنیا سے سفر کا

وقفہ ہے کوئی دم کا نہ ساعت نہ گھڑی ہے

کد ہے وہ مجھے کوچ میں آنے نہیں دیتے

اپنا ہے خیال ان کو مجھے دل کی پڑی ہے

ہمت کو نظر پا نہیں سکتی کسی صورت

دل کوئی بڑا ہے جو کوئی آنکھ بڑی ہے

اے حشر نمائندۂ رفتار ٹھہر جا

اس زلف کے صدقے جو تری پاؤں پڑی ہے

تڑپا دیا دل گوندھ کے گیسو شب وصلت

میں جانتا تھا پیٹھ پہ پھولوں کی چھڑی ہے

بالائے جبیں خون جب آیا تو عرق کیا

اے جلوہ گہہ حسن تری دھوپ کڑی ہے

آدھی سے زیادہ شب غم کاٹ چکا ہوں

اب بھی اگر آ جاؤ تو یہ رات بڑی ہے

آرائش گیسو کو حسیں مانگ رہے ہیں

ثاقبؔ کی غزل کیا کوئی موتی کی لڑی ہے

مأخذ :
  • کتاب : Deewan-e-Saqib (Pg. 290)
  • Author : Mirza Zakir Husain Qazlibaas Saqib Lucknowvi
  • مطبع : Urdu Acadami U.P. (1998)
  • اشاعت : 1998

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے