کہتے تو ہم بھی دل سے کچھ یہ امید ہوتی
کہتے تو ہم بھی دل سے کچھ یہ امید ہوتی
ملتی جو اک نظر تو اپنی بھی عید ہوتی
آنکھوں میں ڈوب جاتے ہم ان کو دیکھتے ہی
ہر سانس میں محبت کی اک نوید ہوتی
زلفوں کی چھاؤں ملتی دل کو قرار آتا
دن بھی حسین لگتا شب بھی سعید ہوتی
وہ سامنے جو آتے ہم جان بھی لٹاتے
دنیا کی ہر خوشی پھر اپنی مرید ہوتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.