زندگی یوں ہے کہ مائل بہ فنا ہو جیسے
زندگی یوں ہے کہ مائل بہ فنا ہو جیسے
کوئی مٹتا ہوا نقش کف پا ہو جیسے
کتنی بے جان ہے اس فصل کے پھولوں کی ہنسی
جانکنی میں کوئی مفہوم ادا ہو جیسے
مے یہ دی ہے کہ مرے نفس کو رشوت ساقی
دل دکھانا ترے مشرب میں روا ہو جیسے
برگ گل قطرۂ شبنم سے جھکا جاتا ہے
بار احساں بڑی مشکل سے اٹھا ہو جیسے
یوں بڑھے جاتے ہیں طوفان کی جانب کچھ لوگ
ان کی کشتی کے موافق ہی ہوا ہو جیسے
بے دلی اپنا مقدر ہے ہمیشہ سے مگر
آج تو شیشۂ دل ٹوٹ گیا ہو جیسے
کس کے قدموں کی یہ آہٹ سی ہے زنداں کے قریب
وقت کے دل کے دھڑکنے کی صدا ہو جیسے
گم ہے ہنگامۂ حالات میں یوں روح نشاط
دم بخود کنج گلستاں میں صبا ہو جیسے
آج یوں ذہن میں روشن ہوئے ماضی کے نقوش
کوئی اجڑا ہوا گھر پھر سے بسا ہو جیسے
مجھ کو اظہار صداقت کی بھی ملتی ہے سزا
میں نے اے لیثؔ کوئی جرم کیا ہو جیسے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.