Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زندگی یوں ہے کہ مائل بہ فنا ہو جیسے

لیث قریشی

زندگی یوں ہے کہ مائل بہ فنا ہو جیسے

لیث قریشی

MORE BYلیث قریشی

    زندگی یوں ہے کہ مائل بہ فنا ہو جیسے

    کوئی مٹتا ہوا نقش کف پا ہو جیسے

    کتنی بے جان ہے اس فصل کے پھولوں کی ہنسی

    جانکنی میں کوئی مفہوم ادا ہو جیسے

    مے یہ دی ہے کہ مرے نفس کو رشوت ساقی

    دل دکھانا ترے مشرب میں روا ہو جیسے

    برگ گل قطرۂ شبنم سے جھکا جاتا ہے

    بار احساں بڑی مشکل سے اٹھا ہو جیسے

    یوں بڑھے جاتے ہیں طوفان کی جانب کچھ لوگ

    ان کی کشتی کے موافق ہی ہوا ہو جیسے

    بے دلی اپنا مقدر ہے ہمیشہ سے مگر

    آج تو شیشۂ دل ٹوٹ گیا ہو جیسے

    کس کے قدموں کی یہ آہٹ سی ہے زنداں کے قریب

    وقت کے دل کے دھڑکنے کی صدا ہو جیسے

    گم ہے ہنگامۂ حالات میں یوں روح نشاط

    دم بخود کنج گلستاں میں صبا ہو جیسے

    آج یوں ذہن میں روشن ہوئے ماضی کے نقوش

    کوئی اجڑا ہوا گھر پھر سے بسا ہو جیسے

    مجھ کو اظہار صداقت کی بھی ملتی ہے سزا

    میں نے اے لیثؔ کوئی جرم کیا ہو جیسے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے