Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تری تخلیق نے بدلے ہیں یہ عنواں کیسے

عدیم ہاشمی

تری تخلیق نے بدلے ہیں یہ عنواں کیسے

عدیم ہاشمی

MORE BYعدیم ہاشمی

    تری تخلیق نے بدلے ہیں یہ عنواں کیسے

    تن انساں میں اچھلنے لگے حیواں کیسے

    تو نے تو اعلیٰ و اشرف کا شرف بخشا تھا

    گر کے پاتال تک آئے ترے انساں کیسے

    جب کہ احساس کا جھگڑا ہی مٹا ڈالا ہو

    اپنے اعمال پہ پھر کوئی پشیماں کیسے

    کون مخلوق غلط کار کو دے گا کشتی

    نوح جب کوئی نہیں ہے تو یہ طوفاں کیسے

    تن گئی آ کے سمندر کی یہ چادر کیوں کر

    ہٹ گیا سر سے مرے سایۂ یزداں کیسے

    آج سورج نہیں پانی ہے سوا نیزے پر

    سج گیا سر پہ مرے حشر کا میداں کیسے

    کس نے آباد گھروندوں کو کھنڈر کر ڈالا

    بس گئے شہر کی گلیوں میں بیاباں کیسے

    اپنے ہاتھوں سے جہاں تو نے کیا ہے آباد

    اپنے ہاتھوں سے کرے گا اسے ویراں کیسے

    میرا انسان بھٹکتا تو کوئی بات نہ تھی

    راستہ بھول گیا ہے ترا انساں کیسے

    کتنے وحشی نکل آئے ہیں سر عام عدیمؔ

    کھل گیا فطرت آدم کا یہ زنداں کیسے

    یہ نبوت کا زمانہ تو نہیں کوئی عدیمؔ

    دل میں ابھری ہوس تخت سلیماں کیسے

    زندگی موت سے بد تر ہوئی جاتی ہے عدیمؔ

    پھر بھی حیرت ہے کہ جینے کے ہیں ارماں کیسے

    روح پر کتنی خراشیں ہیں تری سانسوں کی

    زندگی اور اٹھاؤں ترے احساں کیسے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے