لفظوں کے ہیر پھیر کی ناؤ میں آ گیا
لفظوں کے ہیر پھیر کی ناؤ میں آ گیا
میں جل پری کے جال کی آؤ میں آ گیا
یہ گاؤں زندگی کی حسیں تر نظیر تھا
بس پھر بنانے والے کے بھاؤ میں آ گیا
اس گلبدن نے کھڑکی میں آنے کی بات کی
ہر بے بصیر ذہنی دباؤ میں آ گیا
دنیائے خواہشات میں دونوں شریک تھے
پھر وہ معاشیات کے داؤ میں آ گیا
وہ مصلحت کے تیز بہاؤ میں بہہ گئی
کاشفؔ بھی شاعری کے چناؤ میں آ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.