کوئی خوشی غمی ہو میں تب یاد آؤں گا
کوئی خوشی غمی ہو میں تب یاد آؤں گا
ہر حال ڈھونڈ لوں گا سبب یاد آؤں گا
سب موسموں کو بن مرے چاہے گزار لو
برسات جب بھی آئے گی تب یاد آؤں گا
کھوئے گا جب جہان حسینوں کی بھیڑ میں
میں چاند کوئی ایسی ہی شب یاد آؤں گا
آنکھوں میں لے چھپا کہ خیالوں میں دفن کر
بن کر میں ایک خواب طرب یاد آؤں گا
تو یاد کر نہ کر مجھے یہ تو گوارا ہے
سوچے گا جب تو غیر کو تب یاد آؤں گا
ایسی بھی میرے دوست فراغت نہیں مجھے
بیٹھا ہوں انتظار میں کب یاد آؤں گا
یوں ہو کے خوش گمان گزاری ہے زندگی
جب یاد آؤں گا تو غضب یاد آؤں گا
کب تک گزارو گے یہاں اوروں کی زندگی
جب ہوگی تم کو اپنی طلب یاد آؤں گا
خوش فہمی کا یہ سلسلہ ابرکؔ دراز ہے
اٹھ جاؤں گا جہاں سے میں تب یاد آؤں گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.