دین و دنیا ہی کے سب کو درمیاں جانے دیا
دین و دنیا ہی کے سب کو درمیاں جانے دیا
ہم نے مے خانے کی جانب کارواں جانے دیا
بے دلی اتنی بڑھی کہ ہم سمجھ پائے نہیں
یہ جہاں جانے دیا کہ وہ جہاں جانے دیا
عشق میں تیرے تھے ہم تو تھا ہمارے مبتلا
تو نے مجھ کو میں نے تجھ کو مہرباں جانے دیا
تا دم آخر مرے جذبات میرے ہی رہے
میں نے اپنی عمر کو بھی رائیگاں جانے دیا
کل کی شب کو میرے در پہ ارسلانؔ آیا تھا وہ
آدمی اچھا تھا لیکن میری جاں جانے دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.