سب دوستوں کی خیر سبھی دشمنوں کی خیر
سب دوستوں کی خیر سبھی دشمنوں کی خیر
اے کوئے آستین ترے باسیوں کی خیر
ہونٹوں کو سینچتے ہوئے چشموں کی خیر ہو
پیروں کو چومتی ہوئی پگڈنڈیوں کی خیر
تو نے سلا دیا مجھے کتنے سکون سے
اے بھیرویں کے راگ ترے انتروں کی خیر
کھلتی ہے مجھ پہ روز نئے اہتمام سے
اس کائنات حسن کے سب زاویوں کی خیر
شامل ہیں ان میں کتنے ہی میرے عزیز لوگ
مولا مخالفین کی ساری صفوں کی خیر
جن کا نصیب ہیں تری گوری کلائیاں
ان چوڑیوں کی خیر ہو ان کنگنوں کی خیر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.