اوج افلاک سے اک بار اشارہ ہو جائے
اوج افلاک سے اک بار اشارہ ہو جائے
خاک کا ذرہ بھی گردوں کا ستارہ ہو جائے
تیری تقسیم پہ راضی ہوں مگر میرے رب
رزق اتنا تو عطا کر کہ گزارہ ہو جائے
وہ جو سمجھیں تو مرے اشک بھی موتی ٹھہریں
وہ جو دیکھیں تو یہ دریا بھی کنارہ ہو جائے
عشق آزاد کہاں چھوڑے گا ہم جیسوں کو
عین ممکن ہے کہ دل قید دوبارہ ہو جائے
دوسری بار نہیں آتا کوئی دنیا میں دوست
کون چاہے گا کہ دو بار خسارہ ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.