دوستو جان پہ بن آئی ہے
دوستو جان پہ بن آئی ہے
یہ بڑے شہر کی تنہائی ہے
سر ہتھیلی پر اگا ہی لے گا
جس نے جینے کی قسم کھائی ہے
مارنا بھی نہیں آتا جن کو
ان کو بھی شوق مسیحائی ہے
سچ اگر بولوں تو کٹتی ہے زبان
اور چپ رہنے میں رسوائی ہے
اب کی برسات میں برسے گی خزاں
کس قیامت کی گھٹا چھائی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.