دوست اک شام اکٹھے تو ہوئے رونے کو
دوست اک شام اکٹھے تو ہوئے رونے کو
پھر بھی آنسو تو بہت کم ہیں تجھے رونے کو
ایک حد تک مرا بیمار ابھی زندہ تھا
اور تیار تھے سب چھوٹے بڑے رونے کو
ہم تو جیسے کہ کنارے پہ کھڑے ہوتے ہیں
وہ اداسی ہے کہ بس بات ملے رونے کو
جس قدر رونے کی عادت ہے وہ دن دور نہیں
لوگ بلوائیں گے مرنے پہ مجھے رونے کو
جس کے پیچھے نہیں ہوتا کوئی رونے والا
ہم بنائے گئے ضوریزؔ اسے رونے کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.