Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیں

مصحفی غلام ہمدانی

دلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیں

مصحفی غلام ہمدانی

دلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیں

ویران ہیں محلے سنسان گھر پڑے ہیں

جب دیکھتا ہوں ان کو تب تا کمر پڑے ہیں

یہ بال میرے جی کے پیچھے مگر پڑے ہیں

عزت یہ پیادگی کی کم ہے کہ گھوڑے والے

گھوڑے سے دیکھتے ہی مجھ کو اتر پڑے ہیں

دیکھا تو اس چمن میں باد خزاں کے ہاتھوں

اکھڑے ہوئے زمیں سے کیا کیا شجر پڑے ہیں

قریات ہند کا اب یہ رنگ ہے کہ کوسوں

جاوے کوئی جدھر کو اجڑے نگر پڑے ہیں

رویا ہے اس چمن میں کون آ کے اے صبا جو

ہر نخل گل کے نیچے لخت جگر پڑے ہیں

بگڑا کیے ہیں ہم بھی اس نازنیں سے ہر دم

کام اپنے رفتہ رفتہ یوہیں سنور پڑے ہیں

ہیں جان و دل کے خواہاں کیا سر کے بال اس کے

جو کچھ ادھر پڑے ہیں اور کچھ ادھر پڑے ہیں

مقتل میں یہ تماشا اس کے نیا میں دیکھا

ایدھر کو دھڑ پڑے ہیں اودھر کو سر پڑے ہیں

بلبل کا باغباں سے کیا اب نشان پوچھوں

بیروں در چمن کے یک مشت پر پڑے ہیں

شبنم گلاب پاشی غنچے کی جلد اٹھا لا

گل بستر غشی پر سب بے خبر پڑے ہیں

اے مصحفیؔ میں ان کو اب چھوڑتا ہوں کوئی

وہ بعد مدتوں کے میری نظر پڑے ہیں

مأخذ :
  • کتاب : kulliyat-e-mas.hafii(divan-e-doom) (Pg. 205)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے