پہلے وہ آفتاب سے بیگانہ ہو گیا
پہلے وہ آفتاب سے بیگانہ ہو گیا
پھر مضمحل چراغ کا دیوانہ ہو گیا
کاشانۂ حیات سے بجھنے لگا چراغ
ٹک دیکھتے ہی دیکھتے ویرانہ ہو گیا
اے پاسبان عقل و خرد کیا خبر تجھے
کیوں دل کسی کے پیار میں دیوانہ ہو گیا
خود اپنے دل جگر کو جلایا تمام شب
میں اپنی ذات کے لیے پروانہ ہو گیا
جام و سبو سے کیسی غرض دل تو اے غزال
تیری نگاہ ناز کا مستانہ ہو گیا
پہلی نظر میں میری نظر سر بہ خم ہوئی
دہلیز پر ہی سجدۂ شکرانہ ہو گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.