Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل کسی مشتاق کا ٹھنڈا کیا

نسیم دہلوی

دل کسی مشتاق کا ٹھنڈا کیا

نسیم دہلوی

دل کسی مشتاق کا ٹھنڈا کیا

خوب کیا آپ نے اچھا کیا

آج حیا آنکھ کی کچھ اور ہے

چاہنے والا کوئی پیدا کیا

ہائے رے پیماں شکنی کے مزے

جب میں گیا وعدۂ فردا کیا

کچھ تو کسی نے انہیں سمجھا دیا

ہم جو گئے آج تو پردہ کیا

گو کہ نہ تھا میری طرف منہ مگر

ترچھی نگاہوں سے وہ دیکھا کیا

آہ کی تقصیر نہیں ہے مگر

بے اثری نے مجھے رسوا کیا

کہہ کے لے آتے ہیں تمہیں ہوشیار

یہ نہ کیا ہم نے تو پھر کیا کیا

موت کے صدقے کہ یہ کہتے تھے وہ

آج نہ اس نے کوئی پھیرا کیا

آپ کے احسان کی تعریف ہے

میں نے اگر شکوۂ اعدا کیا

نام میرا سنتے ہی شرما گئے

تم نے تو خود آپ کو رسوا کیا

قدر مری تم نے نہ کی ورنہ میں

کیا کہوں کیا آپ کو سمجھا کیا

میں نے تو اے جان جہاں جان دی

تم نے ادا حق وفا کیا کیا

پھر وہ نہائے عرق شرم میں

کس نے مرے عشق کا چرچا کیا

میں دل صد چاک کا کہتا تھا حال

شانہ عبث زلف سے الجھا کیا

اس کی نظر میں ہوا ہلکا نسیمؔ

مجھ سے مرے شوق نے کیا کیا کیا

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے