Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

اکبر الہ آبادی

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

اکبر الہ آبادی

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

امیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں

مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کی

یہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں

وہی پریاں ہیں اب بھی راجا اندر کے اکھاڑے میں

مگر شہزادۂ گلفام پر شیدا نہیں ہوتیں

یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شک

مگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں

تعلق دل کا کیا باقی میں رکھوں بزم دنیا سے

وہ دل کش صورتیں اب انجمن آرا نہیں ہوتیں

ہوا ہوں اس قدر افسردہ رنگ باغ ہستی سے

ہوائیں فصل گل کی بھی نشاط افزا نہیں ہوتیں

قضا کے سامنے بے کار ہوتے ہیں حواس اکبرؔ

کھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے