ستمگر بے وفا کوئی تو ہوگا
ستمگر بے وفا کوئی تو ہوگا
مرے محبوب سا کوئی تو ہوگا
ابھی ہنس لو مری دیوانگی پر
کبھی تم سے جدا کوئی تو ہوگا
ٹھکانہ جس سے تیرا پوچھ لیں گے
جہاں میں دل جلا کوئی تو ہوگا
چھپا بیٹھا ہے جو سارے جہاں سے
کہیں اس کا پتہ کوئی تو ہوگا
بہاریں لوٹ آئیں گی یقیناً
بدن نغمہ سرا کوئی تو ہوگا
اٹھا لینا ہمارا دل سمجھ کر
کہ ٹوٹا آئنہ کوئی تو ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.