جیون کے پرانے سپنوں کا اوتار بدلنے والا ہے
جیون کے پرانے سپنوں کا اوتار بدلنے والا ہے
ٹوٹے ہوئے ساز فطرت کا ہر تار بدلنے والا ہے
کٹیوں میں اجالا پھیلے گا محلوں پہ اندھیرا چھائے گا
دنیا سے کہو اب جینے کا بیوہار بدلنے والا ہے
چوٹی پہ ہمالہ پربت کی وہ سرخ پھریرا لہرایا
مشرق سے کرن پھوٹی ہے نئی سنسار بدلنے والا ہے
تم چین سے جن طوفانوں کا ساحل سے نظارا کرتے ہو
رخ آج انہیں طوفانوں کا سرکار بدلنے والا ہے
ذروں سے بھی کم قیمت ہوں گے زرداروں کے یہ ہیرے موتی
اب ان کے طلسمی منڈل کا بیوپار بدلنے والا ہے
روٹی کے عوض ہندیؔ جس سے پیٹوں میں دہکتے ہیں شعلے
خاشاک سے ایسی دولت کا انبار بدلنے والا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.