Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جیون کے پرانے سپنوں کا اوتار بدلنے والا ہے

ہندی گورکھپوری

جیون کے پرانے سپنوں کا اوتار بدلنے والا ہے

ہندی گورکھپوری

MORE BYہندی گورکھپوری

    جیون کے پرانے سپنوں کا اوتار بدلنے والا ہے

    ٹوٹے ہوئے ساز فطرت کا ہر تار بدلنے والا ہے

    کٹیوں میں اجالا پھیلے گا محلوں پہ اندھیرا چھائے گا

    دنیا سے کہو اب جینے کا بیوہار بدلنے والا ہے

    چوٹی پہ ہمالہ پربت کی وہ سرخ پھریرا لہرایا

    مشرق سے کرن پھوٹی ہے نئی سنسار بدلنے والا ہے

    تم چین سے جن طوفانوں کا ساحل سے نظارا کرتے ہو

    رخ آج انہیں طوفانوں کا سرکار بدلنے والا ہے

    ذروں سے بھی کم قیمت ہوں گے زرداروں کے یہ ہیرے موتی

    اب ان کے طلسمی منڈل کا بیوپار بدلنے والا ہے

    روٹی کے عوض ہندیؔ جس سے پیٹوں میں دہکتے ہیں شعلے

    خاشاک سے ایسی دولت کا انبار بدلنے والا ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے