غرور عشق نزاکت حیا سمجھتا ہے
غرور عشق نزاکت حیا سمجھتا ہے
اے حسن والے بتا کیا وفا سمجھتا ہے
یہ اقتدار یہ دولت خدا نے دی ہے مگر
امیر شہر تو خود کو خدا سمجھتا ہے
ذرا سی جنبش گردن ہے کیا جواب سلام
وہ مجھ غریب کو کیا جانے کیا سمجھتا ہے
علاج عشق کا نسخہ لکھا ہے عشق کرو
طبیب عشق بھی میری دوا سمجھتا ہے
کدھر سے آئی ہے کس رنگ کی ہے کیسی ہے
مرا چراغ بھی تیری ہوا سمجھتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.