اپنا انداز بھی تو سب سے جدا رکھا ہے
اپنا انداز بھی تو سب سے جدا رکھا ہے
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
دیکھنا چاہتے ہیں لوگ تجھے حسرت سے
تو نہیں ہے تو تری دنیا میں کیا رکھا ہے
ہم نے ظاہر بھی نہیں ہونے دیا اپنا ظہور
تم نے بھی ہم کو زمانے سے چھپا رکھا ہے
ہم نے گر یار خطا کی بھی تعجب کیسا
نام آدم کا خدا نے بھی خطا رکھا ہے
منتظر ہیں کہ کبھی لوٹ بھی سکتا ہے وہ شخص
ہم نے دیوار پر اک دیپ جلا رکھا ہے
یہ ترے چھوڑ کے جانے کا نتیجہ ہے کہ دوست
دشت اخترؔ نے بھی سینے سے لگا رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.