دستکیں کوئی دے گیا ہوگا
دستکیں کوئی دے گیا ہوگا
دل کا دروازہ وا ہوا ہوگا
ماند سی ہوگی حسن کی رنگت
عشق جب خاک میں ملا ہوگا
دل کہ بوسیدہ قبر پر میرا
ٹمٹماتا ہوا دیا ہوگا
کہیں شہنائی بج رہی ہوگی
کہیں کہرام مچ گیا ہوگا
سرخ آنچل میں کوئی گم صم ہو
کوئی ماتم منا رہا ہوگا
کوئی حسرت نما پرندہ کہیں
شاخ امید سے اڑا ہوگا
اس کو جانے سے روک تمثیلہؔ
وہ بھی کیا جانے سوچتا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.