ہاتھ میں آئی بازی ہارا کرتے تھے
ہاتھ میں آئی بازی ہارا کرتے تھے
ہم ایسے بھی وقت گزارا کرتے تھے
وہ پانی پر عکس اتارا کرتی تھی
ہم دریا میں چاند نہارا کرتے تھے
حسن مری غزلوں کا بڑھتا جاتا تھا
وہ جب اپنی زلف سنوارا کرتے تھے
ساری دنیا قدموں میں رکھ جاتا تھا
ہم اس کو بس ایک اشارہ کرتے تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.