نہ ملا قرب تو بس یاد کا سایہ ہی بہت
نہ ملا قرب تو بس یاد کا سایہ ہی بہت
دل بے تاب کو جینے کا سہارا ہی بہت
میں نے مانا کہ نہیں عشق کے آداب مجھے
تیری خاموش نگاہوں کا اشارہ ہی بہت
ہم نے چاہا تھا اسے ضد تو نہیں قسمت سے
درد جو اس سے ملا ہے وہ اثاثہ ہی بہت
تم اگر غیر کے حصے میں خوشی رکھ آئے
میرے حصے میں تمہارا یہی دھوکا ہی بہت
کوئی دعویٰ نہ کیا کوئی شکایت نہیں کی
بے رخی میں تری اک طور کا لہجہ ہی بہت
عمر گزری ہے اسی ایک تمنا کے طفیل
نہ سہی وصل تری راہ کا رستہ ہی بہت
ہم نے سیکھا ہے خسارے میں بھی جینا ساغرؔ
زندگی کے لیے بس اتنا قرینہ ہی بہت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.