دل کے مردہ خانے سے اک ہنسی چرا لوں گا
دل کے مردہ خانے سے اک ہنسی چرا لوں گا
آپ روٹھ کر خود سے آپ ہی منا لوں گا
خاک ڈالیے اس پر ٹوٹ کر بکھر جائے
خواب کی یہی دنیا خواب میں بسا لوں گا
ہائے ٹیس اٹھتی ہے دل کا کیا کروں لیکن
خون رس ہی آئے گا زخم تو چھپا لوں گا
اندرون اک وحشی محو رقص ہے شاید
جانے کیا پتا اپنا کب گلا دبا لوں گا
قتل کے ارادے سے پیار کرنے آیا تھا
اعتبار تھا اس پر دل کا خوں بہا لوں گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.