درد منت کش دوا نہ ہوا
دلچسپ معلومات
اس غزل کے تعلق سے غالب نے مرزا حاتم علی مہر کو ایک خط بھی لکھا ہے ، جس کے الفاظ یہ ہیں "میرا کلام میرے پاس کچھ نہیں رہا۔ نواب ضیأالدین خان اور نواب حسین مرزا جمع کر لیتے تھے، جو میں نے کہا انھوں نے لکھ لیا۔ ان دونوں کے گھر لٹ گئے۔ ہزاروں روپیے کے کتاب خانے برباد ہوئے۔ اب میں اپنے کلام کے دیکھنے کو ترستا ہوں۔ کئی دن ہوئے کہ ایک فقیر کہ وہ خوش آواز بھی ہے اور زمزمہ پرداز بھی ہے، ایک غزل میری کہیں سے لکھوا لایا۔ اس نے وہ کاغذ جو مجھ کو دکھایا، یقین سمجھنا کہ مجھ کو رونا آیا۔ غزل تم کو بھیجتا ہوں اور صلے میں اس کے اس خط کا جواب چاہتا ہوں" بحوالہ ’غالب کے خطوط از خلیق انجم ۔ جلد دوم ، صفحہ 710
درد منت کش دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا
ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
ہے خبر گرم ان کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
زخم گر دب گیا لہو نہ تھما
کام گر رک گیا روا نہ ہوا
رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے
لے کے دل دل ستاں روانہ ہوا
کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.