جنوں کے ہات اب میں کیا کہوں دل سخت حیراں ہے
جنوں کے ہات اب میں کیا کہوں دل سخت حیراں ہے
گریباں کر چکا ہوں نذر آگے اب یہ داماں ہے
تجھے واجب ہے جانا عرس میں اپنے شہیدوں کے
سنا ہوں میں کہ ان کا آج صندل کل چراغاں ہے
رہا گر آستاں پر آ کے میں فرط عقیدت سے
تکلف بر طرف سرکار کا کیا اس میں نقصاں ہے
لگے کیوں کر نہ دل کنج قفس میں عندلیبوں کا
جہاں میں آج کل آباد گر کچھ ہے تو زنداں ہے
نہیں لازم ہے دینا ہاتھ سے شیوہ ترحم کا
ہوئی واقع ذکاؔ سے کچھ اگر تقصیر انساں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.