Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے

سعید قیس

چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے

سعید قیس

چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے

تجھ کو دیکھا ہے تو تجھ سا نہیں دیکھا میں نے

حادثہ جو بھی ہو چپ چاپ گزر جاتا ہے

دل سے اچھا کوئی رستہ نہیں دیکھا میں نے

پھر دریچے سے وہ خوشبو نہیں پہنچی مجھ تک

پھر وہ موسم کبھی دل کا نہیں دیکھا میں نے

موم کا چاند ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہوں

شہر میں دھوپ کا میلہ نہیں دیکھا میں نے

چڑھتے سورج کی شعاعوں نے مجھے پالا ہے

جو اتر جائے وہ دریا نہیں دیکھا میں نے

پھر مرے پاؤں کی زنجیر ہلا دے کوئی

کب سے اس شہر کا رستہ نہیں دیکھا میں نے

مجھ کو پانی میں اترنے کی سزا دیتا ہے

وہ سمجھتا ہے کہ دریا نہیں دیکھا میں نے

قیسؔ کہتے ہیں فقیروں پہ بہت بھونکتا ہے

اپنے ہم سایے کا کتا نہیں دیکھا میں نے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے